نچلی عدالتوں میں برسوں کا انتظار خود بدعنوانی کی ایک خاموش صورت بن جاتا ہے — اور اس کا فائدہ تقریباً ہمیشہ اُس فریق کو پہنچتا ہے جس کے پاس زیادہ پیسہ اور زیادہ وقت ہو۔
پاکستان میں قانون کا ہر طالب علم ایک پرانا اصول سیکھتا ہے: انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ یہ بے صبری کا شکوہ نہیں۔ یہ ایک اصل ناانصافی کا بیان ہے۔ جب کوئی مقدمہ دس، بیس یا تیس سال لے لے تو نتیجہ تاخیر خود طے کر دیتی ہے — اور فیصلہ اُسی کے حق میں جاتا ہے جو انتظار کی سکت رکھتا ہو۔ مالک مکان کرایہ دار سے زیادہ دیر ٹھہر سکتا ہے۔ طاقتور فریق عام آدمی سے زیادہ دیر لڑ سکتا ہے۔ غریب صرف اس نظام سے جان چھڑانے کے لیے کم پر راضی ہو جاتا ہے۔ یعنی تاخیر عدالتوں کا کوئی ضمنی نقصان نہیں۔ طاقتور کے لیے یہ ایک حکمتِ عملی ہے۔
یہ رپورٹ نچلی (ضلعی) عدلیہ پر بات کرتی ہے — یعنی وہ سول اور سیشن عدالتیں جہاں عام لوگوں کے زیادہ تر جھگڑے شروع ہوتے ہیں اور جہاں مقدمات کی بہت بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی سرخیوں سے بہت نیچے، اصل میں یہیں پاکستانیوں کی اکثریت انصاف کے نظام کا سامنا کرتی ہے۔
زیرِ التوا مقدمات کا سب سے زیادہ بوجھ نظام کے سب سے نچلے حصے پر ہے، ٹھیک وہیں جہاں سے عام شہری داخل ہوتے ہیں۔ نیچے دیا گیا جدول بتاتا ہے کہ 31 دسمبر 2024 کو یہ مقدمے عدالتوں کے مختلف درجوں میں کس طرح بٹے ہوئے تھے۔ یہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چھ ماہی عدالتی اعداد و شمار کا تازہ ترین دورانیہ ہے۔
| عدالت کا درجہ | کون سے مقدمے دیکھتی ہے | زیرِ التوا مقدمے |
|---|---|---|
| سپریم کورٹ | آخری اپیلیں، آئینی معاملات | 57,316 |
| ہائی کورٹس | اپیلیں، رٹ درخواستیں (ہر صوبے میں ایک، اور اسلام آباد) | 348,983 |
| ضلعی عدلیہ | سول اور فوجداری مقدمے — جہاں زیادہ تر جھگڑے شروع ہوتے ہیں | 1,933,755 |
حال ہی میں سپریم کورٹ نے کہا کہ تقریباً ایک دہائی میں پہلی بار اس کے اپنے زیرِ التوا مقدمے کم ہوئے ہیں۔ عدالت نے اکتوبر 2025 میں جو بیان جاری کیا، اس کے مطابق یہ تعداد جنوری 2024 کے آغاز میں 60,446 تھی اور اکتوبر 2025 تک 56,169 رہ گئی۔ مگر مقدمات کا کہیں بڑا بوجھ اب بھی ضلعی عدالتوں پر ہے۔
کوئی مقدمہ کسی ایک وجہ سے نہیں رکتا۔ یہ اس لیے رکتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے کئی مسئلے ایک دوسرے پر چڑھتے چلے جاتے ہیں، اور ہر ایک مہینے یا برس بڑھا دیتا ہے۔ اس زنجیر کو سمجھنا ہی اسے توڑنے کا پہلا قدم ہے۔
سب سے بڑی وجہ سیدھی سی ہے: مقدمے بہت زیادہ ہیں اور جج بہت کم۔ مصروف اضلاع میں ایک سول جج کی روزانہ کاز لسٹ درجنوں معاملات تک پہنچ جاتی ہے — ایسے میں سوچ سمجھ کر سماعت ممکن نہیں رہتی اور التوا تقریباً یقینی ہو جاتا ہے۔ خالی آسامیاں، ججوں کے بار بار تبادلے اور عدالتوں کی بوسیدہ عمارتیں اس مسئلے کو اور بگاڑ دیتی ہیں۔
جب مقدمہ اسے دائر کرنے والے سے بھی لمبی عمر پا لے تو ‘جیت’ کا مطلب سچا ہونا نہیں رہتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ انتظار کر سکتے ہیں۔
تاخیر غیر جانبدار نہیں ہوتی۔ عدالت کو، جسے سب کو برابر کرنا تھا، یہ ایک ایسے آلے میں بدل دیتی ہے جو پیسے اور طاقت کو انعام دیتا ہے۔ دیکھیے کہ وہی زیرِ التوا مقدمے مختلف لوگوں کے ساتھ کتنا مختلف سلوک کرتے ہیں۔
| تاخیر کیا کرتی ہے | طاقتور فریق کے لیے | عام شہری کے لیے |
|---|---|---|
| 15 سال کا مقدمہ | خرچ برداشت ہو جاتا ہے، وکیل پہلے سے رکھے ہوئے ہیں | جمع پونجی ختم، اکثر ہار ماننی پڑتی ہے |
| متنازع زمین | مقدمہ چلتا رہتا ہے، زمین ان کے استعمال میں رہتی ہے | برسوں اپنی ہی جائیداد سے باہر |
| صلح کا دباؤ | انتظار ختم کرنے کے لیے کم رقم کی پیشکش کرتے ہیں | اپنے حق سے بہت کم پر راضی ہو جاتے ہیں |
| گواہ اور شواہد | وقت کے ساتھ یادداشت دھندلاتی ہے اور ثبوت غائب ہوتے ہیں | کمزور اور وقت پر منحصر مقدمہ بیٹھ جاتا ہے |
اس تاخیر میں بدعنوانی کی ایک اور، زیادہ سیدھی صورت بھی گندھی ہوئی ہے۔ فائلوں اور سماعت کی تاریخوں پر جن اہلکاروں کا اختیار ہوتا ہے، وہ خاموشی سے رفتار بیچ سکتے ہیں — یا مزید تاخیر بیچ سکتے ہیں۔ سروے اسی کی تصدیق کرتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 میں، جو اُسی دسمبر شائع ہوا، 4,000 لوگوں سے رائے لی گئی۔ ان میں سے 14 فیصد نے عدلیہ کو پاکستان کے سب سے بدعنوان شعبوں میں شمار کیا — پولیس اور سرکاری خریداری کے بعد تیسرے نمبر پر۔ اس سودے بازی کو طاقت زیرِ التوا مقدمات سے ملتی ہے۔ اگر تاریخیں خودکار اور شفاف ہوں تو بیچنے کو بہت کم رہ جائے گا۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ شہری عدالتوں پر بھروسہ ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں لوگ غیر رسمی فورموں کا رخ کرتے ہیں — جرگے اور پنچایتیں — جو جلد فیصلے کا وعدہ کرتے ہیں مگر بنیادی حقوق اور قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں، اور کبھی نتیجہ المناک نکلتا ہے۔ جو نظامِ انصاف بہت سست ہو وہ صرف انصاف میں دیر نہیں کرتا، لوگوں کو قانون سے باہر بھی دھکیل دیتا ہے۔
تصویر پوری طرح مایوس کن نہیں۔ تقریباً ایک دہائی میں پہلی بار سپریم کورٹ کے اپنے زیرِ التوا مقدمے کم ہونے لگے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں اس کمی کا اعلان کرتے ہوئے عدالت نے اس کا سہرا عدالتی اصلاحات کے منصوبے، مقدمات کے بہتر انتظام اور عدالتوں کو ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر لانے کی کوشش کو دیا۔ ماڈل عدالتوں، بعض قسم کے مقدمات کے لیے مقررہ مدت اور ای فائلنگ کے تجربات نے دکھایا ہے کہ زیرِ التوا مقدمے انتظام سے کم ہوتے ہیں — یہ کوئی قدرتی قانون نہیں۔ اصل مشکل ان کامیابیوں کو نیچے ضلعی عدالتوں تک لے جانا ہے، جہاں اصل پہاڑ کھڑا ہے۔
نچلی عدالتوں کا سبق سادہ مگر سخت ہے۔ جو حق آپ مناسب وقت میں منوا نہ سکیں، وہ حق برائے نام ہی ہے۔ تاخیر کم کرنا بدعنوانی کے خلاف جنگ کا کوئی تکنیکی حاشیہ نہیں — زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے یہی اصل جنگ ہے۔