پاکستان میں بدعنوانی کو سمجھناایک تعلیمی سلسلہ
07رپورٹ

انصاف میں تاخیر

نچلی عدالتوں میں برسوں کا انتظار خود بدعنوانی کی ایک خاموش صورت بن جاتا ہے — اور اس کا فائدہ تقریباً ہمیشہ اُس فریق کو پہنچتا ہے جس کے پاس زیادہ پیسہ اور زیادہ وقت ہو۔

پاکستان میں قانون کا ہر طالب علم ایک پرانا اصول سیکھتا ہے: انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ یہ بے صبری کا شکوہ نہیں۔ یہ ایک اصل ناانصافی کا بیان ہے۔ جب کوئی مقدمہ دس، بیس یا تیس سال لے لے تو نتیجہ تاخیر خود طے کر دیتی ہے — اور فیصلہ اُسی کے حق میں جاتا ہے جو انتظار کی سکت رکھتا ہو۔ مالک مکان کرایہ دار سے زیادہ دیر ٹھہر سکتا ہے۔ طاقتور فریق عام آدمی سے زیادہ دیر لڑ سکتا ہے۔ غریب صرف اس نظام سے جان چھڑانے کے لیے کم پر راضی ہو جاتا ہے۔ یعنی تاخیر عدالتوں کا کوئی ضمنی نقصان نہیں۔ طاقتور کے لیے یہ ایک حکمتِ عملی ہے۔

یہ رپورٹ نچلی (ضلعی) عدلیہ پر بات کرتی ہے — یعنی وہ سول اور سیشن عدالتیں جہاں عام لوگوں کے زیادہ تر جھگڑے شروع ہوتے ہیں اور جہاں مقدمات کی بہت بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی سرخیوں سے بہت نیچے، اصل میں یہیں پاکستانیوں کی اکثریت انصاف کے نظام کا سامنا کرتی ہے۔

2.36Mمقدمے 31 دسمبر 2024 کو پاکستان کی عدالتوں میں زیرِ التوا تھے — لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چھ ماہی عدالتی اعداد و شمار کے مطابق
1.93Mان میں سے اتنے مقدمے ضلعی عدلیہ میں ہیں — وہی نچلی عدالتیں جن سے عام آدمی کا سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے
64%ضلعی سطح کے زیرِ التوا مقدمات میں سول مقدمے تھے — زمین، وراثت، معاہدے اور خاندانی جھگڑے — کمیشن کی 2023 کے آخر کی گنتی میں

پیمانہانتظار کا پہاڑ

زیرِ التوا مقدمات کا سب سے زیادہ بوجھ نظام کے سب سے نچلے حصے پر ہے، ٹھیک وہیں جہاں سے عام شہری داخل ہوتے ہیں۔ نیچے دیا گیا جدول بتاتا ہے کہ 31 دسمبر 2024 کو یہ مقدمے عدالتوں کے مختلف درجوں میں کس طرح بٹے ہوئے تھے۔ یہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چھ ماہی عدالتی اعداد و شمار کا تازہ ترین دورانیہ ہے۔

عدالتی درجے کے حساب سے زیرِ التوا مقدمات — لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، 31 دسمبر 2024
عدالت کا درجہکون سے مقدمے دیکھتی ہےزیرِ التوا مقدمے
سپریم کورٹآخری اپیلیں، آئینی معاملات57,316
ہائی کورٹساپیلیں، رٹ درخواستیں (ہر صوبے میں ایک، اور اسلام آباد)348,983
ضلعی عدلیہسول اور فوجداری مقدمے — جہاں زیادہ تر جھگڑے شروع ہوتے ہیں1,933,755

حال ہی میں سپریم کورٹ نے کہا کہ تقریباً ایک دہائی میں پہلی بار اس کے اپنے زیرِ التوا مقدمے کم ہوئے ہیں۔ عدالت نے اکتوبر 2025 میں جو بیان جاری کیا، اس کے مطابق یہ تعداد جنوری 2024 کے آغاز میں 60,446 تھی اور اکتوبر 2025 تک 56,169 رہ گئی۔ مگر مقدمات کا کہیں بڑا بوجھ اب بھی ضلعی عدالتوں پر ہے۔

یہ ہوتا کیسے ہےایک مقدمہ پوری نسل کیوں لے لیتا ہے

کوئی مقدمہ کسی ایک وجہ سے نہیں رکتا۔ یہ اس لیے رکتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے کئی مسئلے ایک دوسرے پر چڑھتے چلے جاتے ہیں، اور ہر ایک مہینے یا برس بڑھا دیتا ہے۔ اس زنجیر کو سمجھنا ہی اسے توڑنے کا پہلا قدم ہے۔

جج بہت کم ہر جج روزانہ درجنوں مقدمے نہ رکنے والا التوا ہاتھ سے، کاغذ پر ریکارڈ رکھنا فائلیں ‘گم’، تاریخیں خریدی گئیں برسوں کی تاخیر صبر کرنے والا طاقتور فریق تھکا کر جیت جاتا ہے
تاخیر بہت سی چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے بنتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک ٹھیک ہو سکتی ہے — اسی لیے یہ نظامِ حکمرانی کا مسئلہ ہے، تقدیر کا نہیں۔

اصل رکاوٹ ججوں کی کمی ہے

سب سے بڑی وجہ سیدھی سی ہے: مقدمے بہت زیادہ ہیں اور جج بہت کم۔ مصروف اضلاع میں ایک سول جج کی روزانہ کاز لسٹ درجنوں معاملات تک پہنچ جاتی ہے — ایسے میں سوچ سمجھ کر سماعت ممکن نہیں رہتی اور التوا تقریباً یقینی ہو جاتا ہے۔ خالی آسامیاں، ججوں کے بار بار تبادلے اور عدالتوں کی بوسیدہ عمارتیں اس مسئلے کو اور بگاڑ دیتی ہیں۔

جب مقدمہ اسے دائر کرنے والے سے بھی لمبی عمر پا لے تو ‘جیت’ کا مطلب سچا ہونا نہیں رہتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ انتظار کر سکتے ہیں۔

یہ بدعنوانی کا مسئلہ کیوں ہےتاخیر بطور ہتھیار

تاخیر غیر جانبدار نہیں ہوتی۔ عدالت کو، جسے سب کو برابر کرنا تھا، یہ ایک ایسے آلے میں بدل دیتی ہے جو پیسے اور طاقت کو انعام دیتا ہے۔ دیکھیے کہ وہی زیرِ التوا مقدمے مختلف لوگوں کے ساتھ کتنا مختلف سلوک کرتے ہیں۔

ایک ہی تاخیر، دو بالکل مختلف تجربے
تاخیر کیا کرتی ہےطاقتور فریق کے لیےعام شہری کے لیے
15 سال کا مقدمہخرچ برداشت ہو جاتا ہے، وکیل پہلے سے رکھے ہوئے ہیںجمع پونجی ختم، اکثر ہار ماننی پڑتی ہے
متنازع زمینمقدمہ چلتا رہتا ہے، زمین ان کے استعمال میں رہتی ہےبرسوں اپنی ہی جائیداد سے باہر
صلح کا دباؤانتظار ختم کرنے کے لیے کم رقم کی پیشکش کرتے ہیںاپنے حق سے بہت کم پر راضی ہو جاتے ہیں
گواہ اور شواہدوقت کے ساتھ یادداشت دھندلاتی ہے اور ثبوت غائب ہوتے ہیںکمزور اور وقت پر منحصر مقدمہ بیٹھ جاتا ہے

اس تاخیر میں بدعنوانی کی ایک اور، زیادہ سیدھی صورت بھی گندھی ہوئی ہے۔ فائلوں اور سماعت کی تاریخوں پر جن اہلکاروں کا اختیار ہوتا ہے، وہ خاموشی سے رفتار بیچ سکتے ہیں — یا مزید تاخیر بیچ سکتے ہیں۔ سروے اسی کی تصدیق کرتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 میں، جو اُسی دسمبر شائع ہوا، 4,000 لوگوں سے رائے لی گئی۔ ان میں سے 14 فیصد نے عدلیہ کو پاکستان کے سب سے بدعنوان شعبوں میں شمار کیا — پولیس اور سرکاری خریداری کے بعد تیسرے نمبر پر۔ اس سودے بازی کو طاقت زیرِ التوا مقدمات سے ملتی ہے۔ اگر تاریخیں خودکار اور شفاف ہوں تو بیچنے کو بہت کم رہ جائے گا۔

جب لوگ عدالتوں سے بالکل ہی ہاتھ اٹھا لیں

سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ شہری عدالتوں پر بھروسہ ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں لوگ غیر رسمی فورموں کا رخ کرتے ہیں — جرگے اور پنچایتیں — جو جلد فیصلے کا وعدہ کرتے ہیں مگر بنیادی حقوق اور قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں، اور کبھی نتیجہ المناک نکلتا ہے۔ جو نظامِ انصاف بہت سست ہو وہ صرف انصاف میں دیر نہیں کرتا، لوگوں کو قانون سے باہر بھی دھکیل دیتا ہے۔

کیا بدل رہا ہےمحتاط امید کی وجہیں

تصویر پوری طرح مایوس کن نہیں۔ تقریباً ایک دہائی میں پہلی بار سپریم کورٹ کے اپنے زیرِ التوا مقدمے کم ہونے لگے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں اس کمی کا اعلان کرتے ہوئے عدالت نے اس کا سہرا عدالتی اصلاحات کے منصوبے، مقدمات کے بہتر انتظام اور عدالتوں کو ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر لانے کی کوشش کو دیا۔ ماڈل عدالتوں، بعض قسم کے مقدمات کے لیے مقررہ مدت اور ای فائلنگ کے تجربات نے دکھایا ہے کہ زیرِ التوا مقدمے انتظام سے کم ہوتے ہیں — یہ کوئی قدرتی قانون نہیں۔ اصل مشکل ان کامیابیوں کو نیچے ضلعی عدالتوں تک لے جانا ہے، جہاں اصل پہاڑ کھڑا ہے۔

کیا مدد دیتا ہےاصلاحات اور شہری شعور

نچلی عدالتوں کا سبق سادہ مگر سخت ہے۔ جو حق آپ مناسب وقت میں منوا نہ سکیں، وہ حق برائے نام ہی ہے۔ تاخیر کم کرنا بدعنوانی کے خلاف جنگ کا کوئی تکنیکی حاشیہ نہیں — زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے یہی اصل جنگ ہے۔