بڑے سرکاری منصوبے اتنی بار زیادہ مہنگے اور کم نتیجہ خیز کیوں نکلتے ہیں — اور معاہدے میں چھپا ہوا ایک ‘کمیشن’ کیسے ٹوٹتی ہوئی سڑک یا برسوں لیٹ ہونے والا ڈیم بن جاتا ہے۔
سڑکیں، ڈیم، میٹرو، بجلی گھر، ہوائی اڈے: یہ ترقی پذیر ملک کے دکھائی دینے والے وعدے ہیں۔ یہی وہ جگہ بھی ہے جہاں سرکاری پیسہ سب سے بڑی مقدار میں ایک ساتھ حرکت کرتا ہے — اسی لیے بدعنوانی کے چھپنے کے لیے یہ سب سے پرکشش جگہ ہے۔ طریقہ کم ہی ڈرامائی ہوتا ہے۔ یہ معاہدے کے اندر ایک خاموش ردوبدل ہوتا ہے: کہیں قیمت بڑھا دی گئی، کہیں کوئی حریف چپکے سے باہر کر دیا گیا، کہیں معیار کی شرط نرم کر دی گئی تاکہ سستا اور کمتر کام مہنگے داموں بل کیا جا سکے۔ کمیشن وہ حصہ ہے جو یہ سارا بندوبست کرنے والے کے پاس واپس پہنچ جاتا ہے۔ عوام دو بار قیمت دیتے ہیں — ایک بار بڑھے ہوئے بل میں، اور دوسری بار جب سڑک پندرہ سال کے بجائے تین سال میں دوبارہ بنانی پڑتی ہے۔
کوئی سرکاری منصوبہ منصوبہ بندی سے لے کر آخری ادائیگی تک کئی مرحلوں سے گزرتا ہے۔ ہر مرحلہ نگرانی کا ایک مقام ہے — اور ہر مرحلے کو رساؤ میں بدلا جا سکتا ہے۔ یہ خاکہ منصوبے کی پوری عمر دکھاتا ہے اور نشان لگاتا ہے کہ قدر خاموشی سے کہاں بہہ جاتی ہے۔
خریداری میں بدعنوانی اپنے نشان چھوڑ جاتی ہے۔ آڈٹ کرنے والے، صحافی اور نگران ادارے وہی چند بار بار آنے والے اشارے تلاش کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک اشارہ اکیلا بے ضرر ہو سکتا ہے، مگر مل کر یہ بتاتے ہیں کہ سارا عمل ایک طرف جھکا ہوا ہے۔
| خطرے کا نشان | یہ کس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے |
|---|---|
| صرف ایک بولی دہندہ | مقابلے کو خاموشی سے روکا یا باہر کیا گیا |
| خاص طور پر بنائی گئی شرائط | شرائط ایسی لکھی گئیں کہ صرف ایک کمپنی پوری اترے |
| تنگ اور بغیر اعلان کے آخری تاریخیں | حریفوں کو بولی تیار کرنے کا اصل موقع ہی نہ ملا |
| جلد بازی / ‘ہنگامی’ ٹھیکہ | کھلے ٹینڈر کے قواعد سے بچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے |
| بار بار ‘ردوبدل کے احکام’ | معاہدہ ہو جانے کے بعد قیمت خاموشی سے بڑھا دی جاتی ہے |
| پسندیدہ کمپنی بار بار جیتتی ہے | منصفانہ مقابلہ نہیں، ایک پرانا تعلق |
پاکستان میں خریداری کے قواعد موجود ہیں — انہیں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) بناتی ہے — مگر آڈٹ کرنے والوں اور نگران اداروں کی بار بار شکایت کمزور عمل درآمد کی ہے۔ قواعد کاغذ پر موجود ہیں اور محکمے انہیں توڑ کر بھی بچ نکلتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان سرکاری ٹینڈروں پر باقاعدہ شکایات دائر کرتی ہے۔ وہ کئی بار اربوں مالیت کے ایسے ٹھیکوں کی نشاندہی کر چکی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ قواعد کو نظر انداز کیا گیا۔ انہی میں ہوائی اڈوں کے ای گیٹ کا 20 ارب روپے کا ٹھیکہ بھی ہے، جو وہ وزیراعظم آفس تک لے گئی اور پھر PPRA نے اس کی تحقیقات شروع کر دیں۔
دھاندلی زدہ ٹھیکہ صرف پیسہ نہیں چراتا۔ یہ ایسا پل بناتا ہے جس پر آپ پورا بھروسہ نہیں کر سکتے۔
پچھلی دہائی کے کچھ بڑے منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت آتے ہیں — بڑی سڑکیں، بجلی گھر اور بنیادی ڈھانچہ، جن کے لیے پیسہ بیرونی قرضوں اور حکومتوں کے آپس کے معاہدوں سے آیا۔ ایسے منصوبے حقیقی سرمایہ کاری لاتے ہیں۔ لیکن ان کے حجم اور محدود شفافیت پر تشویش برقرار رہی ہے۔ جب معاہدے کی شرائط اور لاگت پوری طرح سامنے نہ ہوں تو شہری آسانی سے یہ نہیں پرکھ سکتے کہ انہیں اپنے پیسے کا پورا فائدہ مل رہا ہے یا نہیں۔ اور کھلے مقابلے کا ٹینڈر نہ ہو تو بڑھی ہوئی قیمتوں پر لگی سب سے مضبوط قدرتی روک بھی ہٹ جاتی ہے۔ شفافیت یہاں ان منصوبوں کی مخالفت نہیں — یہ ان پر بھروسہ کرنے کی شرط ہے۔
بڑے منصوبوں کی بدعنوانی کو کبھی کبھی یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ ‘اشرافیہ اشرافیہ سے چوری کر رہی ہے’۔ ایسا نہیں ہے۔ بڑھائی ہوئی رقم اُسی سرکاری بجٹ سے جاتی ہے جس سے اسکول، اسپتال اور صاف پانی چلتے ہیں۔ جب ایک سڑک 15 سے 20 فیصد مہنگی پڑے — اور آڈٹ کرنے والوں کو یہی فرق بار بار ملتا ہے — تو یہ فرق وہ پیسہ ہے جو کہیں اور خرچ نہیں ہو سکا۔ اور جب کام میں کوتاہی ہو تو نقصان وہی اٹھاتا ہے جو اس سڑک پر گاڑی چلاتا ہے، وہ پانی پیتا ہے یا اُس بجلی گھر پر انحصار کرتا ہے۔ کمیشن کی قیمت آخرکار ہمیشہ شہری پر منتقل ہو جاتی ہے۔
بڑے منصوبے وہ طریقہ ہیں جس سے کوئی ملک اپنے مستقبل میں سرمایہ لگاتا ہے۔ خریداری کو کھلا اور مقابلے والا بنانا سرکاری خانہ پری نہیں — یہ وہ راستہ ہے جس سے شہری یقینی بناتے ہیں کہ جس مستقبل کی وہ قیمت دے رہے ہیں، بنے بھی وہی۔