رپورٹ #01
پاکستان شہری تعلیم · جمہوریت اور سویلین–عسکری تعلقات

مقبولیت یا طاقت؟

عمران خان کے عروج و زوال میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار — اور یہ کہ اِس طاقت کی اصل حد کہاں ہے۔

ایک جملے میں

کیا عسکری اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو ”بنایا“، یا اُنہوں نے اپنی حمایت خود کمائی؟ 2018 اور 2024 کے انتخابات کو ساتھ رکھ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی مقبولیت اور اسٹیبلشمنٹ کا اثر — دونوں حقیقی تھے، اور یہ اثر کہاں جا کر رُک جاتا ہے۔

1یہ سوال کیوں اہم ہے

پاکستانی گھرانوں کو شاید ہی کوئی سوال اِس سے زیادہ تقسیم کرتا ہو: کیا عسکری اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اقتدار میں لائی، یا اُنہوں نے یہ مقام دہائیوں کی جدوجہد سے خود حاصل کیا؟ بحث عموماً یوں پیش کی جاتی ہے جیسے آپ کو کوئی ایک رُخ چننا ہی پڑے گا — یا تو وہ ایجنسیوں کا ”پروجیکٹ“ تھے، یا ایک ایسے عوامی رہنما جن سے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی تعلق نہ تھا۔

یہ رپورٹ آپ کو نہیں بتاتی کہ کس کا ساتھ دیں۔ یہ آپ کو واضح سوچنے کے اوزار دیتی ہے۔ سب سے درست تصویر ”یا یہ یا وہ“ نہیں ہے: مقبولیت اور اسٹیبلشمنٹ کا اثر، دونوں ایک ہی وقت میں حقیقی تھے، اور یہ سمجھنا کہ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کیسے کام کیا، کسی بھی نعرے سے زیادہ سکھاتا ہے۔

ذرائع کے بارے میں ایک بات: اِس موضوع پر تقریباً ہر بیان جانب دار ہے، اور وہی کردار مختلف برسوں میں اپنے فائدے کے مطابق متضاد مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔ پوری رپورٹ میں ثابت شدہ حقائق کو متنازع الزامات سے الگ رکھا گیا ہے۔

2دونوں بیانیے، غیر جانب داری سے

شواہد تولنے سے پہلے، دونوں مؤقف یوں رکھیں جیسے اُن کے اپنے حامی پیش کریں گے۔

ایک ہی واقعات، دو زاویوں سے
بیانیہ الف — ”منتخب کردہ“بیانیہ ب — ”طویل جدوجہد“
بنیادی دعویٰ2017 تا 2018 پسِ پردہ بندوبست کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ نے آگے بڑھایا1996 سے تحریک کھڑی کرنے والے ایک حقیقی عوامی رہنما
اہم دلیلحریفوں پر دباؤ، ’الیکٹ ایبلز‘ کا رُخ موڑنا، جھکا ہوا میدانپندرہ سال کی گمنامی، نوجوانوں اور متوسط طبقے کا اُبھار
اِس کا مطلبایک ”ہائبرڈ نظام“ — عسکری مرضی پر سویلین چہرہایسی فطری حمایت جو کوئی ایجنسی صفر سے نہیں گھڑ سکتی

زیادہ تر شواہد ایک تیسرے مؤقف کی تائید کرتے ہیں جس میں دونوں کے حصے شامل ہیں: اُن کی مقبولیت حقیقی تھی اور پہلے آئی؛ اسٹیبلشمنٹ کی مدد بھی حقیقی تھی مگر وہ اِس مقبولیت کے اوپر کام کر رہی تھی، اُسے پیدا نہیں کر رہی تھی۔ باقی رپورٹ یہی وضاحت کرتی ہے۔

3سفر: 1996 سے 2018 تک

عمران خان کے حق میں سب سے مضبوط حقیقت وقت ہے۔ جو تحریک پندرہ سال میں کھڑی ہو، اُسے کوئی خفیہ ایجنسی راتوں رات نہیں بنا سکتی۔

1996پی ٹی آئی کی بنیاد
2002صرف ایک نشست — اپنی
2008انتخابات کا بائیکاٹ
2011لاہور کا عظیم جلسہ — موڑ
2013ایک سنجیدہ قومی جماعت
2018حکومت کی تشکیل

تقریباً پندرہ سال پی ٹی آئی ایک معمولی قوت رہی؛ 2011 کے لاہور جلسے نے ایک حقیقی عوامی اُبھار کا اعلان کیا، خاص طور پر نوجوانوں میں۔

2018 میں جو بھی ہوا، ترتیب واضح ہے: مقبولیت پہلے آئی۔

4بنیادی نکتہ: تقویت دینا بمقابلہ گھڑنا

یہی پورے معاملے کا تجزیاتی مرکز ہے۔ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی اصل طاقت صفر سے مقبولیت گھڑنے کی طاقت نہیں۔ یہ اُس رہنما کو تقویت دینے کی طاقت ہے جسے وہ پسند کرے، اور اُس میں رکاوٹ ڈالنے کی جسے وہ ناپسند کرے — اور یہ دونوں کام اِس پر منحصر ہیں کہ عوام کا جھکاؤ پہلے سے کس طرف ہے۔

ایک ہی طاقت، دو سمتیں
عوامی رجحان کے ساتھ دھکاعوامی رجحان کے خلاف دھکا
کیا کر سکتی ہےپہلے سے اُبھرتے رہنما کو تقویتحقیقی عوامی رہنما میں رکاوٹ
کیسی دکھتی ہےخاموش، قابلِ انکار، تقریباً غیر مرئینمایاں، بھونڈی، نظر آنے والی دھاندلی
نتیجہفطری جیت لگتی ہے — کیونکہ جزوی طور پر ہے بھیغیر مقبول کے لیے مقبول نتیجہ گھڑنے کا کوئی صاف راستہ نہیں

یہی ایک فرق اِس معمے کو حل کرتا ہے کہ 2018 اور 2024 اِتنے مختلف کیوں دکھے۔ یہ ایک ہی طاقت ہے جو مخالف سمتوں میں کام کر رہی ہے۔

5کیس اسٹڈی — 2018: رجحان کے ساتھ

2018 میں اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ نتیجہ اور عوام کا اُبھرتا رجحان ایک ہی طرف تھے۔ نتیجہ ایک ایسی جیت تھی جو بیک وقت مقبول بھی تھی اور معاون بھی۔ ناقدین مخصوص طریقے گناتے ہیں — اِس لیے یہ دعویٰ کہ ”کوئی بتا ہی نہیں سکتا یہ کیسے ہوا“ درست نہیں۔

وہ طریقے جن کی طرف ناقدین اشارہ کرتے ہیں
طریقہکیا الزام تھااثر
الیکٹ ایبلزاپنے مقامی ووٹ بینک رکھنے والے ’الیکٹ ایبل‘ سیاستدان پی ٹی آئی میں آ گئےبنے بنائے ووٹ بینک منتقل ہو گئے
حریف پر دباؤنواز شریف نااہل پھر قید؛ انتخاب سے قبل ن لیگی رہنما احتساب میںاہم حریف فیصلہ کن لمحے پر کمزور — مگر سروے میں مقابلہ برقرار تھا۔ آئی پی او آر کے جس سروے کی تکمیل 4 جولائی 2018 کو ہوئی، اُس میں مسلم لیگ ن 32 فیصد پر تھی اور پی ٹی آئی 29 پر۔ ایک ہفتے بعد ایس ڈی پی آئی کے سروے نے ترتیب اُلٹ دی
ووٹ کی تقسیمنئی اُبھرتی سخت گیر مذہبی جماعتوں کو، سب سے بڑھ کر تحریکِ لبیک پاکستان کو، بھرپور انتخاب لڑنے دیا گیاتحریکِ لبیک نے 22 لاکھ ووٹ لیے اور قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہ جیتی۔ دی نیوز نے 30 جولائی 2018 کو رپورٹ کیا کہ کم از کم 19 حلقوں میں جیت کا فرق تحریکِ لبیک کے ووٹ سے کم تھا۔ اور اُن میں سے 13 میں ہارنے والی مسلم لیگ ن تھی
میڈیا و یومِ انتخابکوریج پر دباؤ، پولنگ ایجنٹ نکالے گئے، نتائج کی ترسیل ناکامبین الاقوامی مبصرین محتاط رہے۔ یورپی یونین کے الیکشن مبصر مشن کے سربراہ مائیکل گیلر نے ووٹ کے اگلے دن کہا کہ “مواقع کی برابری نہیں تھی” اور سابق حکمران جماعت کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کی گئی

منصفانہ مخالف نقطۂ نظر: پی ٹی آئی کے حامی کہتے ہیں کہ یہ عوامل شکست خوردہ حریف بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، کہ نوجوانوں کا اُبھار اور بدعنوانی مخالف پیغام اصلی تھا، اور جیت حقیقی عوامی جذبے کا عکس تھی۔ اِس نقطۂ نظر میں حقیقی وزن ہے — جیسا کہ 2024 ظاہر کرتا ہے۔

6کیس اسٹڈی — 2024: رجحان کے خلاف

2024 تک تعلق ٹوٹ چکا تھا۔ عمران کا فوج سے اختلاف ہوا، 2022 میں اقتدار سے ہٹائے گئے، اور قید ہوئے۔ اُن کی جماعت انتخاب سے پہلے توڑی گئی — پھر بھی عوام بھرپور طریقے سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اُمیدواروں کی طرف جھک گئے۔ بالکل اُسی وقت مشینری نظر آنے لگی۔

اختلاف و برطرفی2022 میں ہٹائے گئے، پھر قید
جماعت توڑی گئیرہنما قید، جلسوں پر پابندی
نشان چھینا گیاآزاد حیثیت سے لڑنے پر مجبور
عوام کی حمایتپھر بھی سب سے بڑا بلاک
نتیجہ بدلا گیاایک حریف اتحاد برسرِاقتدار

اگر اسٹیبلشمنٹ کی طاقت محض کسی کو بھی اقتدار میں ’لے آنے‘ کی ہوتی، تو 2024 میں اُس کے پسندیدہ فریق کی صاف جیت ہونی چاہیے تھی۔ ایسا نہ ہوا۔

فارم 45 بمقابلہ فارم 47 کا تنازع
فارم 45فارم 47
ہر انفرادی پولنگ اسٹیشن پر دستخط شدہ ووٹ شمارریٹرننگ افسر کا مرتب کردہ حلقے کا مجموعی نتیجہ
موقع پر اُمیدواروں کے ایجنٹوں کی گواہی میںجہاں مبصرین نے تضادات ریکارڈ کیے
2024 کے تنازع میں بنیادی شہادت کے سب سے قریبفارم 45 پر آگے اُمیدوار کبھی فارم 47 پر ہار گئے
180 نشستوں کا دعویٰ
پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان کے مطابق جماعت کی اپنی فارم 45 گنتی اُسے قومی اسمبلی کی 180 نشستیں دیتی ہے۔ سرکاری گنتی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اُمیدواروں کو تقریباً 90 ملیں۔ پہلا عدد جماعت کا دعویٰ ہے، آڈٹ شدہ گنتی نہیں — مگر تنازع اِسی فرق کی جسامت پر ہے
سب سے بڑا بلاک
پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد اُمیدواروں نے سب سے زیادہ براہِ راست نشستیں جیتیں…
…پھر بھی
حکومت ن لیگ کی قیادت میں اتحاد نے بنائی

ایک معنی خیز بات: نواز شریف نے وزیرِاعظم کے طور پر واپسی سے انکار کیا۔ اُن کی بیٹی مریم نواز نے 14 فروری 2024 کو کھلے عام کہا کہ وہ اقلیتی اتحادی حکومت نہیں چلانا چاہتے تھے۔ اپنی تینوں پچھلی مدتوں میں اُنہوں نے واضح اکثریت کے ساتھ حکومت کی تھی۔ مطلوبہ فائدہ اُٹھانے والا بھی اُس نتیجے کے سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہتا تھا۔

منصفانہ مخالف نقطۂ نظر: الیکشن کمیشن اور حکومت دھاندلی کے بیان سے اختلاف کرتے ہیں اور شکایات کے لیے الیکشن ٹریبونلز کو درست فورم قرار دیتے ہیں۔ اِن ٹریبونلز کے فیصلے بڑی حد تک درخواست گزاروں کے خلاف گئے ہیں۔ دائر ہونے والی 374 درخواستوں میں سے 246 کا فیصلہ اپریل 2026 تک ہو چکا تھا، اور اُن میں سے 242 مسترد ہوئیں۔ پی ٹی آئی کے پیش کیے گئے مخصوص نشستوں کے اعداد متنازع تخمینے ہیں، طے شدہ حقائق نہیں۔

7دونوں انتخابات مل کر کیا سکھاتے ہیں

2018 اور 2024 کو ساتھ رکھیں تو ایک واضح سبق اُبھرتا ہے — یہ رپورٹ کا سب سے مفید جدول ہے۔

2018 اور 2024 کا موازنہ
20182024
اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ فریقعمران / پی ٹی آئیپی ٹی آئی کے خلاف
عوامی رجحان کی نسبت سمترجحان کے ساتھرجحان کے خلاف
اثر کیسے ظاہر ہواخاموش، قابلِ انکار بندوبستنمایاں دھاندلی (مبینہ)
کیا مطلوبہ نتیجہ ملا؟ہاں — اور فطری دکھاجزوی — مگر صاف نہیں
کیا ثابت ہوااثر اُبھرتے رہنما کو تقویت دے سکتا ہےاثر مینڈیٹ نہیں گھڑ سکتا
  • مقبولیت اور اثر ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ایک رہنما حقیقی طور پر مقبول بھی ہو سکتا ہے اور جھکے ہوئے میدان سے فائدہ بھی اُٹھا سکتا ہے — 2018 دونوں کو ایک ساتھ دکھاتا ہے۔
  • کھل کر دھاندلی کی ضرورت خود ایک حد کا ثبوت ہے۔ اگر کسی کو بھی بٹھایا جا سکتا، تو 2024 صاف دکھتا۔
  • محدود طاقت شکست خوردہ طاقت نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ 2024 میں اپنے فریق کے لیے ووٹ تو نہ جتوا سکی، مگر انتخاب کے بعد کے بندوبست سے کون حکومت کرے یہ ضرور طے کیا۔ مخصوص نشستیں سب سے واضح مثال ہیں۔ 12 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ نے 8 کے مقابلے 5 ووٹوں سے قرار دیا کہ یہ نشستیں پی ٹی آئی کا حق ہیں۔ پھر 27 جون 2025 کو ایک آئینی بینچ نے وہ فیصلہ کالعدم کر کے نشستیں نہ دینے والا فیصلہ بحال کر دیا۔ یوں حکمران اتحاد کو وہ دو تہائی اکثریت مل گئی جو فروری کے نتیجے نے روک رکھی تھی۔ محدود اثر بھی بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔
  • جو مقبولیت دشمنی کے باوجود قائم رہے، وہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ وہ اصلی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے مخالف ہونے کے بعد عمران کی حمایت گری نہیں، بڑھی۔

8اِن دعوؤں کو خود کیسے پرکھیں

چونکہ یہ موضوع بہت حساس ہے، سب سے قیمتی ہنر کسی نتیجے کو یاد کر لینا نہیں، بلکہ شواہد تولنا جاننا ہے۔

  • دیکھیں دعوے سے فائدہ کس کا ہے۔ ’سلیکشن‘ کی کہانی سب سے زیادہ اُن جماعتوں نے پھیلائی جنہیں عمران نے 2018 میں ہرایا؛ ’چوری شدہ مینڈیٹ‘ کی کہانی آج پی ٹی آئی۔ وہی کردار دونوں طرف بحث کر چکے ہیں۔
  • ثابت شدہ حقائق کو الزامات سے الگ کریں۔ نااہلیاں، قید، نشان چھیننا اور اتحادی نتیجہ ریکارڈ پر ہیں؛ یہ دعویٰ کہ یہ سب مربوط تھے، اور دھاندلی کی نشستوں کے ٹھیک ٹھیک اعداد، متنازع ہیں۔
  • بنیادی شہادت تلاش کریں۔ 2024 کے تنازع میں فارم 45 کی دستاویزات اِس کے سب سے قریب ہیں — اِسی لیے بحث اُنہی کے گرد گھومتی ہے۔
  • دونوں طرف کی قطعیت سے ہوشیار رہیں۔ جو کہے کہ وہ خالصتاً منتخب کردہ تھے یا خالصتاً فطری — وہ تجزیہ نہیں، نعرہ بیچ رہا ہے۔

یہ رپورٹ عام قاری کے لیے ایک تعلیمی وضاحت ہے۔ اِس میں 2026 کے آغاز تک کے ثابت شدہ واقعات اور واضح طور پر منسوب الزامات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے، اور یہ کسی سیاسی جماعت کی تائید نہیں کرتی۔ جہاں دعوے متنازع ہیں، وہ تنازع متن میں بیان کر دیا گیا ہے۔ متنازع اعداد تخمینے ہیں، طے شدہ حقائق نہیں۔