پاکستان میں بدعنوانی کو سمجھیےایک تعلیمی سلسلہ
09رپورٹ

ووٹوں کے پیچھے کا پیسہ

ایک نشست جیتنے پر اصل میں کتنا خرچ آتا ہے، قانون کتنی اجازت دیتا ہے، اور یہ فرق خاموشی سے کیسے طے کرتا ہے کہ کون میدان میں اتر سکتا ہے اور جیتنے کے بعد کس کا مقروض ہو گا۔

جمہوریت کو ووٹوں پر چلنا چاہیے۔ مگر ووٹوں کے پیچھے پیسہ چلتا ہے — اور پاکستان میں قواعد کی اجازت سے کہیں زیادہ۔ قانون نے سختی سے طے کر رکھا ہے کہ ایک امیدوار مہم پر زیادہ سے زیادہ کتنا خرچ کر سکتا ہے۔ عملاً سنجیدہ امیدوار اس حد سے کئی گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں، اور سزا تقریباً کسی کو نہیں ملتی۔ یہ حساب کتاب کا کوئی چھوٹا سا مسئلہ نہیں۔ جب ایک نشست جیتنے پر دولت لگتی ہو، تو حقیقت میں صرف امیر یا مضبوط پشت پناہی والے ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اور جس نے مہم کا خرچ اٹھایا، وہ بدلے میں کچھ چاہتا ہے۔ ووٹوں کے پیچھے کھڑا یہی پیسہ سمجھاتا ہے کہ سیاست عام لوگوں کے لیے اتنی بند کیوں لگتی ہے۔

10 ملین روپےقومی اسمبلی کی مہم پر خرچ کی قانونی حد، الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 132 کے تحت، جو 2023 میں بڑھائی گئی (صوبائی نشست کے لیے 4 ملین روپے)
10–20 گنااندازوں کے مطابق سنجیدہ امیدوار قانونی حد کے مقابلے میں اتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں — یہ اعداد ڈان اور پرافٹ نے 2024 کے انتخابات کے موقع پر جمع کیے
کوئی حد نہیںسیاسی جماعت کے اپنے انتخابی اخراجات پر۔ جماعت کا جو پیسہ کسی نامزد امیدوار کی طرف سے خرچ ہو، صرف وہی اُس امیدوار کی حد میں شمار ہوتا ہے

فرققانون کی اجازت اور اصل خرچ

الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 132 طے کرتی ہے کہ ایک امیدوار مہم پر کتنا خرچ کر سکتا ہے۔ پارلیمنٹ نے 2023 میں یہ حد قومی اسمبلی کی نشست کے لیے 4 ملین سے بڑھا کر 10 ملین روپے کر دی، اور صوبائی نشست کے لیے 2 ملین سے بڑھا کر 4 ملین روپے۔ مگر پاکستان میں لین دین بڑی حد تک نقد ہوتا ہے اور آڈٹ کا کوئی اصل ریکارڈ نہیں بنتا۔ اسی لیے اس حد کو عام طور پر ایک رسمی کارروائی سمجھا جاتا ہے۔ فروری 2024 میں ڈان میں لکھتے ہوئے عمار ایچ خان نے ایسے بیانات کا حوالہ دیا کہ نمایاں امیدوار قومی اسمبلی کی ایک نشست پر تقریباً 200 ملین روپے خرچ کرتے ہیں۔ اُسی مہینے پرافٹ نے مسلم لیگ (ن) کے ایک امیدوار کا کہنا نقل کیا کہ جیتنے کے قابل نشست پر کم سے کم 150 سے 200 ملین روپے لگتے ہیں — یعنی قانونی حد سے پندرہ سے بیس گنا زیادہ۔ یہ خاکہ اس فرق کو سامنے لے آتا ہے۔

قومی اسمبلی کی نشست — ایک مہم پر خرچ ہونے والے روپے 0 ~100 ملین روپے ~200 ملین روپے 10 ملین روپے قانونی حد ~150–200 ملین روپے اصل خرچ کا تخمینہ ~1.5 ارب روپے تک سب سے مہنگی مہمات ستون پیمانے کے مطابق نہیں — قانونی حد اتنی ہی چھوٹی ہے
قانونی حد (سبز) اصل خرچ کے تخمینے (سرخ) کے سامنے اتنی چھوٹی ہے کہ مشکل سے نظر آتی ہے۔ یہ تخمینے صرف وضاحت کے لیے ہیں اور حالیہ انتخابات پر ہونے والی صحافت سے لیے گئے ہیں۔ ٹھیک ٹھیک اعداد اسی لیے معلوم نہیں ہو سکتے کہ آڈٹ کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں۔
قانونی حدیں اور تخمینی حقیقت
نشست / فریقخرچ کی قانونی حدعام اندازوں کے مطابق حقیقت
قومی اسمبلی کا امیدوار10 ملین روپےاکثر 100–200 ملین روپے یا اس سے زیادہ، کبھی کہیں زیادہ
صوبائی اسمبلی کا امیدوار4 ملین روپےمعمول کے مطابق حد سے کئی گنا زیادہ
سیاسی جماعتقانون میں کوئی حد مقرر نہیںلامحدود اور بڑی حد تک غیر ظاہر شدہ

جب ایک نشست پر دولت خرچ ہوتی ہو، تو سوال "سب سے بہتر کون ہے؟" نہیں رہتا، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ "کوشش کرنے کی سکت کس میں ہے؟"

پیسہ کہاں جاتا ہےانتخابی مہم کے بجٹ کی ساخت

مہم کا پیسہ صرف بینروں پر نہیں لگتا۔ ایک بڑے حلقے کی مہم کارکنوں کی چھوٹی موٹی فوج، آمد و رفت، جلسوں کے کھانے، دفاتر، چھپائی اور سوشل میڈیا کے بھاری بھرکم انتظام کا خرچ اٹھاتی ہے — اور بعض صورتوں میں کھلم کھلا ووٹ خریدنے کا بھی۔ قانونی حد اُس وقت مقرر ہوئی تھی جب سیاست کہیں چھوٹی اور کہیں سستی تھی۔ بڑے پیمانے کی مہم اور مہنگائی کے ساتھ یہ حد چل ہی نہیں سکی۔ یہی ایک وجہ ہے کہ اسے بدلنے کے بجائے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہےوہ احسان جس کا حساب چکانا پڑتا ہے

اصل مسئلہ خرچ نہیں، بلکہ وہ ہے جو یہ خرچ پیدا کرتا ہے۔ انتخاب جیتنے پر لگایا گیا پیسہ کم ہی تحفہ ہوتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری ہے، اور سرمایہ کاری منافع مانگتی ہے۔ جیتنے والا عہدے پر پہنچ جائے تو یہ منافع کئی شکلیں لے سکتا ہے:

مہم کا پیسہ طرزِ حکمرانی کو کیسے ڈھالتا ہے
خرچمتوقع منافع
امیر امیدوار نے اپنی جیب سے کیاعہدے کے ذریعے "لاگت" کی وصولی — ٹھیکے، تعیناتیاں، اثر و رسوخ
چندہ دینے والوں یا کاروباروں نے اٹھایامن پسند پالیسی، ضابطوں میں رعایت، جھکے ہوئے ٹینڈر
طاقت کے سوداگروں کی پشت پناہیآزادانہ فیصلے کے بجائے وفاداری اور تحفظ
ووٹ کی خرید اور "الیکٹیبلز"سیاست کا مرکز لین دین، نہ کہ نظریہ یا خدمت

ووٹنگ کے بعد کی خرید و فروخت

پولنگ ختم ہونے پر پیسے کی اہمیت ختم نہیں ہو جاتی۔ جہاں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملے، وہاں حکومت بننے کا زمانہ ایک بازار بن سکتا ہے۔ اطلاعات آتی ہیں کہ انفرادی ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے لالچ دیے جاتے ہیں۔ انتخاب کے بعد کا یہ سودا — جسے کبھی ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے — وہی منطق ہے جو انتخابی دن سے آگے بڑھ جاتی ہے: وفاداری کو ایسی چیز سمجھنا جسے خریدا جا سکے۔

یہ کیسی دیوار کھڑی کرتا ہےباہر کون رہ جاتا ہے

سب سے دیرپا نقصان داخلے کی رکاوٹ ہے۔ ایک باصلاحیت استاد، ڈاکٹر یا سماجی کارکن، جس کے پاس نہ دولت ہو اور نہ کوئی امیر پشت پناہ، حقیقت میں کسی بڑی نشست پر مقابلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ امیدواروں کا دائرہ سمٹ کر امیروں اور تعلقات والوں تک رہ جاتا ہے، اور نظام خود کو دہراتا رہتا ہے۔ پیسہ صرف انتخاب کے بعد پالیسی نہیں موڑتا — یہ ایک ووٹ ڈالے جانے سے پہلے ہی طے کر دیتا ہے کہ میدان میں اترنے کی اجازت کس کو ہے۔

کیا مدد دیتا ہےصاف ستھری سیاسی مالیات کی طرف

صاف انتخابات کا تعلق صرف پولنگ کے دن کی دھاندلی سے نہیں۔ ان کا تعلق اُس پیسے سے بھی ہے جو پولنگ سے بہت پہلے طے کر دیتا ہے کہ کون امیدوار بن سکتا ہے اور اس پر کس کا قرض ہو گا۔ اس پیسے کو سب کے سامنے لے آنا بدعنوانی کے خلاف دستیاب سب سے مؤثر اصلاحات میں سے ایک ہے — کیونکہ یہ اُس واحد اوزار کی حفاظت کرتا ہے جو واقعی عام شہری کے ہاتھ میں ہے: ووٹ۔