ایک نشست جیتنے پر اصل میں کتنا خرچ آتا ہے، قانون کتنی اجازت دیتا ہے، اور یہ فرق خاموشی سے کیسے طے کرتا ہے کہ کون میدان میں اتر سکتا ہے اور جیتنے کے بعد کس کا مقروض ہو گا۔
جمہوریت کو ووٹوں پر چلنا چاہیے۔ مگر ووٹوں کے پیچھے پیسہ چلتا ہے — اور پاکستان میں قواعد کی اجازت سے کہیں زیادہ۔ قانون نے سختی سے طے کر رکھا ہے کہ ایک امیدوار مہم پر زیادہ سے زیادہ کتنا خرچ کر سکتا ہے۔ عملاً سنجیدہ امیدوار اس حد سے کئی گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں، اور سزا تقریباً کسی کو نہیں ملتی۔ یہ حساب کتاب کا کوئی چھوٹا سا مسئلہ نہیں۔ جب ایک نشست جیتنے پر دولت لگتی ہو، تو حقیقت میں صرف امیر یا مضبوط پشت پناہی والے ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اور جس نے مہم کا خرچ اٹھایا، وہ بدلے میں کچھ چاہتا ہے۔ ووٹوں کے پیچھے کھڑا یہی پیسہ سمجھاتا ہے کہ سیاست عام لوگوں کے لیے اتنی بند کیوں لگتی ہے۔
الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 132 طے کرتی ہے کہ ایک امیدوار مہم پر کتنا خرچ کر سکتا ہے۔ پارلیمنٹ نے 2023 میں یہ حد قومی اسمبلی کی نشست کے لیے 4 ملین سے بڑھا کر 10 ملین روپے کر دی، اور صوبائی نشست کے لیے 2 ملین سے بڑھا کر 4 ملین روپے۔ مگر پاکستان میں لین دین بڑی حد تک نقد ہوتا ہے اور آڈٹ کا کوئی اصل ریکارڈ نہیں بنتا۔ اسی لیے اس حد کو عام طور پر ایک رسمی کارروائی سمجھا جاتا ہے۔ فروری 2024 میں ڈان میں لکھتے ہوئے عمار ایچ خان نے ایسے بیانات کا حوالہ دیا کہ نمایاں امیدوار قومی اسمبلی کی ایک نشست پر تقریباً 200 ملین روپے خرچ کرتے ہیں۔ اُسی مہینے پرافٹ نے مسلم لیگ (ن) کے ایک امیدوار کا کہنا نقل کیا کہ جیتنے کے قابل نشست پر کم سے کم 150 سے 200 ملین روپے لگتے ہیں — یعنی قانونی حد سے پندرہ سے بیس گنا زیادہ۔ یہ خاکہ اس فرق کو سامنے لے آتا ہے۔
| نشست / فریق | خرچ کی قانونی حد | عام اندازوں کے مطابق حقیقت |
|---|---|---|
| قومی اسمبلی کا امیدوار | 10 ملین روپے | اکثر 100–200 ملین روپے یا اس سے زیادہ، کبھی کہیں زیادہ |
| صوبائی اسمبلی کا امیدوار | 4 ملین روپے | معمول کے مطابق حد سے کئی گنا زیادہ |
| سیاسی جماعت | قانون میں کوئی حد مقرر نہیں | لامحدود اور بڑی حد تک غیر ظاہر شدہ |
جب ایک نشست پر دولت خرچ ہوتی ہو، تو سوال "سب سے بہتر کون ہے؟" نہیں رہتا، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ "کوشش کرنے کی سکت کس میں ہے؟"
مہم کا پیسہ صرف بینروں پر نہیں لگتا۔ ایک بڑے حلقے کی مہم کارکنوں کی چھوٹی موٹی فوج، آمد و رفت، جلسوں کے کھانے، دفاتر، چھپائی اور سوشل میڈیا کے بھاری بھرکم انتظام کا خرچ اٹھاتی ہے — اور بعض صورتوں میں کھلم کھلا ووٹ خریدنے کا بھی۔ قانونی حد اُس وقت مقرر ہوئی تھی جب سیاست کہیں چھوٹی اور کہیں سستی تھی۔ بڑے پیمانے کی مہم اور مہنگائی کے ساتھ یہ حد چل ہی نہیں سکی۔ یہی ایک وجہ ہے کہ اسے بدلنے کے بجائے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
اصل مسئلہ خرچ نہیں، بلکہ وہ ہے جو یہ خرچ پیدا کرتا ہے۔ انتخاب جیتنے پر لگایا گیا پیسہ کم ہی تحفہ ہوتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری ہے، اور سرمایہ کاری منافع مانگتی ہے۔ جیتنے والا عہدے پر پہنچ جائے تو یہ منافع کئی شکلیں لے سکتا ہے:
| خرچ | متوقع منافع |
|---|---|
| امیر امیدوار نے اپنی جیب سے کیا | عہدے کے ذریعے "لاگت" کی وصولی — ٹھیکے، تعیناتیاں، اثر و رسوخ |
| چندہ دینے والوں یا کاروباروں نے اٹھایا | من پسند پالیسی، ضابطوں میں رعایت، جھکے ہوئے ٹینڈر |
| طاقت کے سوداگروں کی پشت پناہی | آزادانہ فیصلے کے بجائے وفاداری اور تحفظ |
| ووٹ کی خرید اور "الیکٹیبلز" | سیاست کا مرکز لین دین، نہ کہ نظریہ یا خدمت |
پولنگ ختم ہونے پر پیسے کی اہمیت ختم نہیں ہو جاتی۔ جہاں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملے، وہاں حکومت بننے کا زمانہ ایک بازار بن سکتا ہے۔ اطلاعات آتی ہیں کہ انفرادی ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے لالچ دیے جاتے ہیں۔ انتخاب کے بعد کا یہ سودا — جسے کبھی ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے — وہی منطق ہے جو انتخابی دن سے آگے بڑھ جاتی ہے: وفاداری کو ایسی چیز سمجھنا جسے خریدا جا سکے۔
سب سے دیرپا نقصان داخلے کی رکاوٹ ہے۔ ایک باصلاحیت استاد، ڈاکٹر یا سماجی کارکن، جس کے پاس نہ دولت ہو اور نہ کوئی امیر پشت پناہ، حقیقت میں کسی بڑی نشست پر مقابلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ امیدواروں کا دائرہ سمٹ کر امیروں اور تعلقات والوں تک رہ جاتا ہے، اور نظام خود کو دہراتا رہتا ہے۔ پیسہ صرف انتخاب کے بعد پالیسی نہیں موڑتا — یہ ایک ووٹ ڈالے جانے سے پہلے ہی طے کر دیتا ہے کہ میدان میں اترنے کی اجازت کس کو ہے۔
صاف انتخابات کا تعلق صرف پولنگ کے دن کی دھاندلی سے نہیں۔ ان کا تعلق اُس پیسے سے بھی ہے جو پولنگ سے بہت پہلے طے کر دیتا ہے کہ کون امیدوار بن سکتا ہے اور اس پر کس کا قرض ہو گا۔ اس پیسے کو سب کے سامنے لے آنا بدعنوانی کے خلاف دستیاب سب سے مؤثر اصلاحات میں سے ایک ہے — کیونکہ یہ اُس واحد اوزار کی حفاظت کرتا ہے جو واقعی عام شہری کے ہاتھ میں ہے: ووٹ۔