اُس مشین کے اندر جہاں منافع بخش سرکاری تعیناتیاں عملاً خریدی اور بیچی جاتی ہیں — اور دی گئی رشوت سود سمیت واپس وصول کی جاتی ہے۔
جب تعیناتی خریدی جا سکتی ہو، تو جو افسر اس کی قیمت دیتا ہے اسے وہ قیمت رشوت کے ذریعے واپس کمانی پڑتی ہے — اور یوں ہر ‘تر’ کرسی ایک چھوٹا کاروبار بن جاتی ہے۔
ہر سرکاری عہدہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ عہدوں کے ہاتھ میں محصولات، ٹھیکے، لائسنس یا زمین ہوتی ہے — انہیں ‘تر’ تعیناتیاں کہا جاتا ہے۔ کچھ عہدوں سے پیسہ بہت کم گزرتا ہے: ‘خشک’ تعیناتیاں۔ ایک تر تعیناتی سے ہونے والی غیر رسمی آمدنی سرکاری تنخواہ سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
جہاں تبادلوں کو قواعد کا تحفظ حاصل نہ ہو، وہاں یہ عہدے عملاً بیچے جاتے ہیں — پیسے سے، سیاسی دباؤ سے یا سفارش (تعلقات) سے۔
تعیناتی کی قیمت اُس ہر رشوت میں شامل ہوتی ہے جو عوام دیتے ہیں۔
| تعیناتی کی قسم | مثالیں | کیوں مانگی جاتی ہے یا کیوں اس سے بچا جاتا ہے |
|---|---|---|
| تر (مطلوب) | ایکسائز، کسٹمز ویلیوایشن، زمین اور مالیہ، مصروف علاقے کا ایس ایچ او، خریداری | پیسے کا بڑا بہاؤ ← زیادہ غیر رسمی آمدنی |
| خشک (ناپسندیدہ) | ریکارڈ کے دفاتر، تربیتی شعبے، دور دراز کے بے اثر دفاتر | پیسہ بہت کم ← اکثر ‘سزا’ کے طور پر دی جاتی ہیں |
یہ روزمرہ بدعنوانی کا انجن ہے۔ یہی طے کرتا ہے کہ اُن کرسیوں پر کون بیٹھے گا جہاں عوام کا واسطہ ریاست سے پڑتا ہے، اور وہاں وہ پیسہ کیوں بناتا ہے۔
یہ رپورٹ ایک تعلیمی وضاحت ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بدعنوانی کی یہ صورت عام طور پر کیسے کام کرتی ہے اور اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ کسی مخصوص شخص یا ادارے پر الزام نہیں۔ جہاں حوالہ نہ ہو، اعداد صرف وضاحت کے لیے ہیں۔