وہ سطح جس کا وجود آئین لازم کرتا ہے، جو بنتی صوبائی قانون سے ہے، اور جس کے ذمے لوگوں کی زیادہ تر شکایتیں ہیں۔ اور جس کے ذمے وہ کچھ نہیں جو لوگ اکثر سمجھتے ہیں۔
شہری جسے "حکومت کی ناکامی" سمجھتا ہے، اُس کا بیشتر حصہ مقامی ہوتا ہے۔ نالی جو اُبل رہی ہے، گلی جو اندھیرے میں ہے، کچرا جو نہیں اٹھایا گیا، پانی جو دو گھنٹے آتا ہے۔ یہ قومی سوال نہیں، اور بڑی حد تک صوبائی بھی نہیں۔ یہ حکومت کی اُس سطح کے کام ہیں جسے قائم کرنا آئین ہر صوبے پر لازم کرتا ہے۔ یہ سطح مکمل طور پر صوبائی قانون سے بنتی ہے۔ اور عملاً یہ لمبے عرصے تک یا تو غیر منتخب رہتی ہے یا بغیر پیسے کے۔ یہ تحریر بتاتی ہے کہ وہ سطح ہے کیا، اُس کے ذمے کیا ہے، اُس کا پیسہ کہاں سے آتا ہے، اور وہ کتنے تسلسل سے موجود رہتی ہے۔
آئین کی ہدایت مختصر ہے۔ آرٹیکل 140A کہتا ہے: "(1) ہر صوبہ، قانون کے ذریعے، مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرے گا۔ (2) مقامی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا۔" یہ آرٹیکل اِنہی الفاظ میں آئین کا حصہ آئین (اٹھارہویں ترمیم) ایکٹ 2010 کے ذریعے بنا، جس نے اِسے آرٹیکل 140 کے بعد رکھا۔
اِن الفاظ میں دکھائی دینے سے زیادہ کام ہے۔ یہ حکم صوبوں کو دیا گیا ہے، وفاق کو نہیں۔ اِس میں لفظ کرے گا ہے۔ اور یہ تین چیزیں گناتا ہے جو منتقل ہونی ہیں، ایک نہیں: سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری۔ یعنی ایسا نظام جس میں منتخب کونسلر تو ہوں مگر بجٹ نہ ہو، اِس جملے پر پورا نہیں اترتا۔ اور شق (2) مقامی انتخابات کرانا صوبے کے ہاتھ سے نکال کر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دے دیتی ہے۔
اِس کے ساتھ ایک پرانی شق بھی ہے۔ آرٹیکل 32 اصولِ پالیسی میں شامل ہے۔ یہ کہتا ہے کہ ریاست منتخب نمائندوں پر مشتمل مقامی حکومتوں کے اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گی، اور اُن میں کسانوں، مزدوروں اور خواتین کی خصوصی نمائندگی ہو گی۔ مگر اصولِ پالیسی براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں: آرٹیکل 30(2) کے مطابق کسی کارروائی یا قانون کو محض اِس بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اِن اصولوں کے مطابق نہیں۔ آرٹیکل 140A اُس باب میں نہیں ہے۔ اِسی لیے انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے 2023 کے ایک مقالے میں دلیل دی کہ آرٹیکل 32 بنیادی حقوق کے باب میں زیادہ کام دے گا۔ وہ مقالہ مقامی حکومتوں کے آئینی تحفظ پر تھا۔
آرٹیکل 140A ذمہ داری تو بناتا ہے، مگر تفصیل کچھ نہیں لکھتا۔ ہر عملی سوال — کتنی سطحیں ہوں گی، اُن کا سربراہ کون ہو گا، وہ کیا ٹیکس لگا سکتی ہیں، اُنہیں کیا پہنچانا ہے — کا جواب کسی صوبائی قانون میں ہے۔ اِس سے دو نتیجے نکلتے ہیں۔
پہلا، پاکستان میں "مقامی حکومت کا نظام" ایک نہیں ہے۔ چار صوبائی نظام ہیں، اور اسلام آباد کے لیے الگ بندوبست، اور یہ ایک جیسے نہیں۔ اِن کے قوانین میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 (ایکٹ XXXIII، 2022)، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013، خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 اور بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010 شامل رہے ہیں۔ ایک صوبے کے کونسلر کے اختیارات دوسرے صوبے کے کونسلر کے اختیارات کا ثبوت نہیں۔
دوسرا، یہ نظام صوبائی اسمبلی کی سادہ اکثریت سے دوبارہ لکھا جا سکتا ہے۔ مقامی حکومت کا ڈھانچہ اُس طرح محفوظ نہیں جس طرح کوئی آئینی منصب ہوتا ہے۔ اکیلے پنجاب نے ایک عشرے کے اندر مقامی حکومت پر بار بار قانون سازی کی ہے۔ ہر نئی تحریر سطحیں دوبارہ طے کرتی ہے، اور عام طور پر انتخابی چکر بھی — یہی اُن طریقوں میں سے ایک ہے جن سے یہ سطح خالی رہ جاتی ہے۔
ذمہ داری آئینی ہے۔ نظام قانونی ہے۔ اِسی خلا میں مقامی حکومت بار بار غائب ہو جاتی ہے۔
صوبائی قوانین میں ایک پہچانا ہوا تین سطحی ڈھانچہ بار بار ملتا ہے، چاہے نام مختلف ہوں۔ چونکہ یہ سطحیں قانون سے بنتی ہیں، صوبے اِن میں اضافہ اور کمی کرتے رہے ہیں؛ اِس لیے محفوظ بات ڈھانچے کے بارے میں کہی جا سکتی ہے، تفصیل کے بارے میں نہیں۔
| سطح | عام نام | یہ کس چیز کے سب سے قریب ہے |
|---|---|---|
| سب سے نچلی | یونین کونسل، ویلج کونسل، محلہ کونسل | سب سے چھوٹی منتخب اکائی؛ پہلی جگہ جہاں شکایت کسی ووٹ سے آئے ہوئے شخص تک پہنچتی ہے |
| درمیانی | تحصیل کونسل، ٹاؤن کمیٹی، میونسپل کمیٹی | خدمات پہنچانے کا اصل بوجھ: پانی، صفائی، کچرا، گلیاں |
| بالائی | ڈسٹرکٹ کونسل، میونسپل کارپوریشن، میٹروپولیٹن کارپوریشن | ضلع یا پورے شہر کا ادارہ، سب سے بڑے بجٹ اور سب سے وسیع دائرۂ کار کے ساتھ |
صوبائی قوانین جو کام مقامی حکومتوں کو دیتے ہیں، وہ حیرت انگیز حد تک ایک جیسے ہیں۔ اور یہی وہ کام ہیں جو ایک شہری کا پورا دن گھیرتے ہیں: پانی کی فراہمی؛ صفائی اور سیوریج؛ کچرے کی جمع آوری اور ٹھکانے لگانا؛ گلیوں کی روشنی؛ مقامی سڑکیں، گلیاں اور فٹ پاتھ؛ اور بارشی پانی کی نکاسی۔ اِن کے ساتھ پارک، مقامی بازار، مذبح خانے، قبرستان، عمارتوں کا ضابطہ، اور پیدائش و اموات کا اندراج بھی۔
یہ فہرست ایک ایسی بات سمجھا دیتی ہے جو ورنہ الجھن کا باعث ہے۔ جب دو گھنٹے کی بارش کے بعد شہر ڈوب جاتا ہے تو یہ نکاسی کی ناکامی ہے، اور نکاسی مقامی کام ہے؛ جب کچرا پڑا رہ جاتا ہے تو ٹھوس فضلہ بھی مقامی کام ہے۔ اِن واقعات پر ہونے والی قومی بحث تقریباً کبھی اُس سطح تک نہیں پہنچتی جس کے یہ کام ہیں۔ جزوی طور پر اِس لیے کہ وہ سطح اکثر موجود ہی نہیں ہوتی کہ اُس سے بات کی جائے۔
لوگوں سے پوچھیے کہ مقامی حکومت کیا کرتی ہے تو بہت سے پولیس کا نام لیں گے۔ پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ پولیس صوبائی معاملہ ہے۔ پولیس فورس صوبائی پولیس قانون کے تحت بنتی، منظم ہوتی، پیسہ پاتی اور حکم لیتی ہے۔ ضلعی پولیس افسر اوپر کی طرف ایک صوبائی زنجیر کے ذریعے صوبائی پولیس سربراہ اور صوبائی حکومت کو جواب دہ ہے — کسی منتخب میئر، چیئرمین یا کونسلر کو نہیں۔
اِس غلط فہمی کی ایک معقول وجہ ہے۔ 2001 میں رائج کیے گئے نظام میں منتخب ضلعی سربراہوں کو ضلعی پولیس پر ایک نگران حیثیت دی گئی تھی، اور دونوں کے درمیان پبلک سیفٹی کمیشن رکھے گئے تھے۔ بعد میں یہ تعلق ختم کر دیا گیا، اور موجودہ صوبائی قوانین اِسے بحال نہیں کرتے۔
نتیجہ صاف الفاظ میں کہنا چاہیے، اور بغیر شکوے کے، کیونکہ ڈھانچہ بس اِسی طرح کام کرتا ہے۔ شہری کے سب سے قریب بیٹھے منتخب نمائندے کے پاس اپنے علاقے میں ریاست کے طاقت والے بازو پر کوئی حکم نہیں چلتا۔ میئر کو جرائم پر ووٹ سے ہٹایا جا سکتا ہے، مگر وہ ایک سپاہی کو حکم نہیں دے سکتا۔ یہ ڈیزائن درست ہے یا نہیں، اِس پر بحث بالکل جائز ہے۔ مگر یہ ہے یہی ڈیزائن، اِس پر کوئی اختلاف نہیں؛ اور جو شخص مقامی تحفظ کے نعرے پر مہم چلا رہا ہو، اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اختیار کس دروازے کے پیچھے ہے۔
جس سطح کے پاس کام ہوں مگر پیسہ نہ ہو، وہ شکایت گھر بن جاتی ہے۔ اِسے روکنے کا طریقہ صوبائی فنانس کمیشن ہے، جو قومی فنانس کمیشن کا صوبائی جوڑ ہے۔ یہ صوبائی قانون کے تحت بنتا ہے اور ایک ایوارڈ جاری کرتا ہے۔ ایوارڈ ایک فارمولا ہوتا ہے جو صوبائی وسائل کا ایک حصہ مقامی حکومتوں میں بانٹتا ہے، عام طور پر آبادی اور ضرورت کے وزن کے ساتھ۔
چونکہ یہ قانونی ہے، ضمانت کی مضبوطی بدلتی رہتی ہے۔ خیبر پختونخوا اِس کی سب سے واضح مثال ہے، جہاں پابندی قانون میں لکھی گئی ہے۔ کمیشن خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی دفعہ 52 کے تحت بنتا ہے۔ اور دفعہ 53 کے مطابق مقامی حکومتوں کو دی جانے والی ترقیاتی گرانٹ صوبے کے کل سالانہ ترقیاتی بجٹ کے 30 فیصد سے کم نہیں ہو سکتی۔ صوبے کے شائع شدہ ایوارڈ یہ حساب کھول کر دکھاتے ہیں، بشمول اِس کے کہ بنیاد میں سے کیا نکالا گیا ہے۔
دو ناکامیاں بار بار آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ کمیشن بنتا ہی نہیں یا نیا ایوارڈ جاری نہیں کرتا، اور رقم صوبائی محکمہ خزانہ سے جیسے تیسے جاتی رہتی ہے۔ دوسری یہ کہ ایوارڈ موجود ہے مگر رقم پوری جاری نہیں ہوتی، اِس لیے مقامی حکومت کے پاس کاغذ پر قانونی حصہ ہوتا ہے اور عملاً اوور ڈرافٹ۔ دونوں صورتوں میں پیسہ دیر سے آتا ہے، کم آتا ہے، یا کسی مخصوص اسکیم سے بندھا آتا ہے — اور جس بجٹ کی منصوبہ بندی نہ ہو سکے، وہ نہ ہونے کے قریب ہے۔
سب سے مستقل بات کسی ایک صوبے کے بارے میں نہیں: یہ سطح اکثر خالی رہتی ہے۔ مدت ختم ہوتی ہے اور انتخابات وقت پر نہیں ہوتے۔ ایک نظام منسوخ ہوتا ہے، اور اُس کی جگہ لینے والے کو کھڑا ہونے میں برس لگ جاتے ہیں۔ کوئی حد بندی یا عدالتی چیلنج پولنگ کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ اِس وقفے میں صوبہ ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیتا ہے، عام طور پر کوئی حاضر سروس سرکاری افسر۔ کام چلتے رہتے ہیں؛ منتخب حصہ نہیں رہتا۔
اِس بات میں احتیاط ضروری ہے، کیونکہ اِس کا غلط استعمال آسان ہے۔ یہ ایک دستاویزی ساختی نمونہ ہے جو چاروں صوبوں میں اور ہر جماعت کی حکومتوں میں سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا 2023 کا مقالہ صوبوں میں 2010–2023 کے دوران مقامی حکومت کے تسلسل کا بے ترتیب ریکارڈ پیش کرتا ہے۔ اور سفارش کرتا ہے کہ سرکاری افسروں کو عبوری ایڈمنسٹریٹر نہ لگایا جائے۔ یہ کسی ایک جماعت پر الزام نہیں: حکومتیں بدلنے کے باوجود نمونے کا قائم رہنا ہی وہ ثبوت ہے کہ اِس کے اسباب ساختی ہیں، جماعتی نہیں۔
یہ اسباب کوئی معما نہیں۔ صوبائی اسمبلی کے ارکان عملاً وہی لوگ ہیں جو اِس وقت ترقیاتی فنڈ اور ذاتی مداخلت کے ذریعے مقامی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ بجٹ رکھنے والا منتخب میئر اُن کے لیے حریف ہے، ماتحت نہیں۔ اور آرٹیکل 140A میں انتخاب چھوٹ جانے پر نہ کوئی آخری تاریخ ہے، نہ سزا — صرف ایک ذمہ داری۔ شق (2) پولنگ الیکشن کمیشن کے سپرد کرتی ہے۔ مگر کمیشن یہ پولنگ تب کراتا ہے جب صوبہ نظام کا قانون بنا چکا ہو، حد بندی کا نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہو، اور تاریخ مانگ چکا ہو۔
آرٹیکل 140A آئین کی سب سے مختصر ذمہ داریوں میں سے ایک ہے، اور سب سے کم پوری کی جانے والی بھی۔ اِس لیے نہیں کہ کوئی اِس سے اختلاف کرتا ہے۔ بلکہ اِس لیے کہ یہ ذمہ داری تو بتاتا ہے، آخری تاریخ نہیں۔ ڈیزائن یہ اُن قوانین پر چھوڑ دیتا ہے جو جب چاہے بدلے جا سکتے ہیں۔ اور پیسے کے لیے یہ ایک ایسے کمیشن پر انحصار کرتا ہے جسے بلانے سے صوبہ انکار کر سکتا ہے۔ جو شہری اِتنا سمجھ لے، وہ اُس شخص سے تیز سوال کر سکتا ہے جو ابھی تک میئر سے پولیس کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔