پاکستان لیڈرشپ انسٹیٹیوٹنظام کی وضاحت
04نظام

کون کس پر پہرہ دیتا ہے

آئین مسلح افواج کو ملک سے باہر ایک ذمہ داری دیتا ہے اور ملک کے اندر ایک مشروط ذمہ داری۔ کون سی شق اِس آلے کا رخ اندر کی طرف موڑتی ہے، اُسے کون طلب کر سکتا ہے، عملاً کون سی فورسز آتی ہیں، اور نظرثانی کا اختیار کس کے پاس بچتا ہے۔

اِس تحریر کے بارے میں ایک وضاحت: ادارہ آئینی شقوں، قوانین اور رپورٹ شدہ عدالتی فیصلوں کو بیان کرتا ہے۔ یہ کسی فرد کا نام نہیں لیتا، کسی زیرِ سماعت مقدمے کا حوالہ نہیں دیتا، اور کسی تعیناتی کے جواز پر رائے نہیں دیتا۔ جہاں سول اور فوجی اختیار کا عملی توازن متنازع ہے، وہاں یہ ایک سے زیادہ فریق کے ماخذ سامنے رکھتا ہے۔

ریاست منظم طاقت سے دو مختلف کام لیتی ہے۔ وہ کسی دوسری ریاست کے مقابلے میں سرحد کا دفاع کرتی ہے، اور اِس کے لیے ایسا آلہ چاہیے جو ارتکاز، رازداری اور رفتار پر بنا ہو۔ اور وہ اپنے ہی شہریوں کے درمیان نظم قائم رکھتی ہے، جن کے حقوق اِس دوران ریاست کے سامنے قائم رہتے ہیں، اور اِس کے لیے ایسا آلہ چاہیے جو تحمل اور شہادت پر بنا ہو۔ تقریباً ہر آئین پہلے آلے کو دوسرے کام کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ سوال کبھی یہ نہیں ہوتا کہ اجازت ہے یا نہیں — سوال یہ ہے کہ کتنی دور تک، کس کے اختیار سے، کتنی مدت کے لیے، اور نظرثانی کس کی۔

کمانآرٹیکل 243، اور یہ کس کے پاس ہے

آرٹیکل 243(1) کہتا ہے کہ "مسلح افواج کا کنٹرول اور کمان وفاقی حکومت کے پاس ہو گا۔" اِسی آرٹیکل میں سپریم کمان صدر کے پاس ہے، صدر کو افواج کھڑی کرنے اور برقرار رکھنے کا اختیار حاصل ہے، اور اِسی میں سروسز چیفس کی تقرری کا طریقہ ہے — اٹھارہویں ترمیم نے 2010 میں یہ آرٹیکل بدلا، اور اب یہ تقرری وزیرِ اعظم کے مشورے پر ہوتی ہے۔

اِسے دوبارہ آئین (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ 2025 نے لکھا، جس پر 13 نومبر 2025 کو دستخط ہوئے۔ اِس نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کیا اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ بنایا، جو چیف آف آرمی اسٹاف کے پاس ہے۔ ڈان کی وضاحتی رپورٹ کے مطابق سروسز چیفس اب بھی وزیرِ اعظم کے مشورے پر مقرر ہوتے ہیں؛ کانسٹی ٹیوشن نیٹ پر شائع ہونے والا تجزیہ اِس ترمیم کو انتظامی اور فوجی بالادستی پختہ کرنے کا عمل قرار دیتا ہے۔ بہرحال، آرٹیکل 243 صرف یہ بتاتا ہے کہ مسلح افواج کس کو جواب دہ ہیں، یہ نہیں کہ ملک کے اندر اُنہیں کب استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اصل جوڑآرٹیکل 245: سول اختیار کی مدد میں

یہ کام آرٹیکل 245 کرتا ہے، اور سارا موضوع اِس کے ایک جملے پر گھومتا ہے۔ آرٹیکل 245(1): "مسلح افواج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت، بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی، اور، قانون کے تابع، طلب کیے جانے پر سول اختیار کی مدد میں کام کریں گی۔"

ایک ہی جملے میں دو ذمہ داریاں ہیں، اور دونوں کی تحریر مختلف ہے۔ پہلی غیر مشروط ہے۔ دوسری پر تین شرطیں ہیں: یہ قانون کے تابع ہے، یعنی اِسے کسی قانون کے ذریعے ہی چلنا ہے؛ یہ سول اختیار کی مدد میں ہے، اُس کی جگہ نہیں؛ اور یہ صرف طلب کیے جانے پر شروع ہوتی ہے۔

یہ قانون زیادہ تر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 ہے۔ دفعہ 4 وفاقی حکومت کو اختیار دیتی ہے کہ وہ مسلح افواج اور سول مسلح افواج کی موجودگی کا حکم دے اور سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اُن کی تعیناتی کی ہدایت کرے، اور یہ صوبائی حکومت کی درخواست پر ہوتا ہے۔ دفعہ 5 بتاتی ہے کہ اِس کے بعد وہ کیا کر سکتی ہیں — تنبیہ کے بعد طاقت کا استعمال، بغیر وارنٹ گرفتاری، بغیر وارنٹ تلاشی — اور یہ سب ضابطہ فوجداری کے باب 9 کے تابع ہے۔

عملاً یہ ایک مسلسل انتظامی عمل ہے، ایک فیصلہ نہیں۔ ڈان نے 6 اپریل 2019 کو رپورٹ کیا کہ سندھ حکومت نے کراچی میں رینجرز کے خصوصی اختیارات میں دفعہ 4(2) کے تحت نوے دن کی توسیع منظور کی، اور اِس کی سمری وفاقی وزارتِ داخلہ کو بھیجی گئی۔ صوبہ درخواست کرتا ہے، وفاق اجازت دیتا ہے، گھڑی چلتی ہے، اور پھر یہی سب دہرایا جاتا ہے۔

ہر آئین بیرونی آلے کا رخ اندر کی طرف موڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ سارا فرق شرائط کا ہے۔

نظرثانیآرٹیکل 245(3) عدالتِ عالیہ کے ساتھ کیا کرتا ہے

شہری کے لیے سب سے اہم شقیں 1973 کے اصل متن میں نہیں تھیں۔ آئین (ساتویں ترمیم) ایکٹ 1977 کی دفعہ 4 نے، جس پر 16 مئی 1977 کو دستخط ہوئے، اصل آرٹیکل کو شق (1) کا نمبر دیا اور اُس کے نیچے تین نئی شقیں شامل کیں۔

اِن میں مرکزی شق آرٹیکل 245(3) ہے: "کوئی عدالتِ عالیہ آرٹیکل 199 کے تحت اپنا اختیار ایسے کسی علاقے کے بارے میں استعمال نہیں کرے گی جہاں پاکستان کی مسلح افواج فی الوقت سول اختیار کی مدد میں کام کر رہی ہوں۔" اِس کے ساتھ ایک شرط ہے جو اُن مقدمات کو محفوظ رکھتی ہے جو تعیناتی شروع ہونے سے پہلے زیرِ سماعت تھے۔

آرٹیکل 245 — ہر شق کیا کرتی ہے
شقاثر
245(1)بیرونی جارحیت کے خلاف دفاع؛ سول اختیار کی مدد میں کارروائی، قانون کے تابع اور صرف طلب کیے جانے پر
245(2)ہدایت کو خود کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا
245(3)اُس علاقے میں عدالتِ عالیہ کا آرٹیکل 199 والا اختیار بند ہو جاتا ہے، سوائے زیرِ سماعت مقدمات کے
245(4)تعیناتی شروع ہونے کے بعد دائر ہونے والے مقدمات اُس عرصے تک معطل رہتے ہیں

اکیلے پڑھیں تو یہ عدالتی نظرثانی کا سوئچ بند کرنے جیسا لگتا ہے۔ رپورٹ شدہ فیصلوں نے اِسے کہیں تنگ معنوں میں پڑھا ہے۔ پی ایل ڈی 1999 ایس سی 504 پر رپورٹ ہونے والے فیصلے میں سپریم کورٹ نے پاکستان آرمڈ فورسز (ایکٹنگ اِن ایڈ آف سول پاور) آرڈیننس 1998 کو کالعدم قرار دیا اور کہا کہ "کوئی قانون، ضابطہ یا آئینی شق ایسی نہیں جو فوجی عدالتوں کو شہریوں کے مقدمات سننے کا اختیار دیتی ہو۔" عدالت نے آرٹیکل 245 کو ایسی شق قرار دیا جو "خود قانون نہیں بناتی بلکہ قانون سازی کو ممکن بناتی ہے"، اور کہا کہ شق (3) کی معطلی "آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی پر واضح طور پر لاگو نہیں ہوتی۔" ایک دروازہ بند ہوتا ہے؛ سپریم کورٹ کا نہیں۔

ڈان نے 29 جولائی 2014 کو، اُس سال کی تعیناتی پر بحث کا جائزہ لیتے ہوئے، لکھا کہ نیاز احمد خان بنام صوبہ سندھ (پی ایل ڈی 1977 کراچی 604) اور درویش ایم اربی بنام وفاقِ پاکستان (پی ایل ڈی 1980 لاہور 206) میں عدالتوں نے قرار دیا کہ آرٹیکل 245 کو کوئی سیاسی حکومت مسلح افواج کے ذریعے حکومت کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتی — سول اختیار کی مدد کا مطلب ہی یہ ہے کہ سول اختیار "موجود ہو، نہ ہٹایا گیا ہو نہ مٹایا گیا ہو۔"

کون آتا ہےسول مسلح افواج

اندرونِ ملک تعیناتی میں عموماً فوج نہیں آتی۔ ایک سول مسلح فورس آتی ہے: ایک وفاقی وردی پوش ادارہ جو نہ فوج ہے نہ پولیس۔ فرنٹیئر کور فرنٹیئر کور آرڈیننس 1959 کے تحت قائم ہے۔ اِس کی دفعہ 3 کہتی ہے کہ وفاقی حکومت اِسے "بنیادی طور پر پاکستان کی بیرونی سرحدوں کے بہتر تحفظ اور انتظام کے لیے" برقرار رکھے گی؛ دفعہ 7 اِس کی "نگرانی، کمان اور کنٹرول" وفاقی حکومت کو دیتی ہے۔ جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے ٹیررازم مانیٹر میں جولائی 2008 میں طارق محمود اشرف نے لکھا کہ اِس کی نگرانی وفاقی وزارتِ داخلہ کے پاس ہے، اور اِس کا پورا افسر کیڈر پاکستانی فوج کے اُن افسران پر مشتمل ہے جو دو سے تین سال کے لیے یہاں بھیجے جاتے ہیں۔ پاکستان رینجرز، جو پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کے تحت قائم ہے، اِسی زمرے میں ہے — اِسی لیے کراچی میں اُس کے اختیارات صوبہ بڑھاتا ہے، مگر معاملہ ایک وفاقی وزارت کو بھیجا جاتا ہے۔

اِس درمیانی جگہ کی تیسری فورس ابھی ختم ہوئی ہے۔ لیویز بلوچستان کی ضلعی فورس تھی، جو "بی ایریاز" کہلانے والے علاقوں میں پولیس کے بجائے صوبائی افسران کے تحت کام کرتی تھی۔ ڈان نے 6 اور 7 جنوری 2026 کو رپورٹ کیا کہ صوبے نے اِس کا بلوچستان پولیس میں انضمام مکمل کر لیا — اکتوبر 2025 میں چھ ڈویژن، اور جنوری 2026 میں باقی دو — اے ایریا اور بی ایریا کا فرق ختم کر دیا، اور ضم شدہ فورس کو بلوچستان پولیس ایکٹ 2011 کے تحت لے آیا۔

دوسرا نصفپولیس ایک صوبائی موضوع ہے

یہ انضمام صوبائی فیصلہ تھا، کیونکہ پولیس صوبائی معاملہ ہے۔ پولیس مشترکہ قانون ساز فہرست پر تھی، یہاں تک کہ اٹھارہویں ترمیم نے 2010 میں یہ فہرست ختم کر دی، اور آرٹیکل 142 کے تحت بچا ہوا قانون سازی کا اختیار صوبائی اسمبلیوں کے پاس رہ گیا۔ آر ایس آئی ایل لا ریویو میں 2019 میں جمال عزیز اور مناہل خان نے لکھا کہ اِس کے بعد پولیس بڑی حد تک صوبائی دائرے میں آتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہ آرٹیکل 142(b)، جو فوجداری قانون اور ضابطہ دونوں مقننوں کے پاس رکھتا ہے، کناروں پر حقیقی ابہام پیدا کرتا ہے۔

پھر صوبے چار مختلف راستوں پر گئے، اور یہی اِس بات کا ثبوت ہے کہ موضوع اُن کا ہے۔ اِسی مطالعے کے مطابق بلوچستان پولیس ایکٹ 2011 نے پولیس آرڈر 2002 کو مکمل طور پر منسوخ کیا، پنجاب پولیس آرڈر (ترمیمی) ایکٹ 2013 آیا، اور خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 نے صرف وہی شقیں منسوخ کیں جو صوبائی دائرے سے متعلق تھیں۔ سندھ نے 2011 میں آرڈر منسوخ کر کے پولیس ایکٹ 1861 بحال کیا، پھر 2019 میں اپنا فیصلہ بدلا اور آرڈر کو 13 جولائی 2011 سے یوں بحال کیا "گویا وہ کبھی منسوخ ہوا ہی نہ ہو"۔

فیصلے کے اختیارات واقعی بٹے ہوئے ہیں، اور یہ تقسیم متن میں لکھی ہے۔ صوبہ اپنی پولیس کے لیے قانون بناتا ہے اور مدد مانگتا ہے؛ وفاقی حکومت مسلح افواج اور سول مسلح افواج کو ہدایت دیتی ہے۔ آرٹیکل 148(3) کہتا ہے کہ "ہر صوبے کو بیرونی جارحیت اور اندرونی خلفشار سے بچانا وفاق کی ذمہ داری ہے۔" آرٹیکل 147 صوبے کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے کام وفاقی حکومت کی رضامندی سے وفاق کے سپرد کرے — اور 2010 میں شامل کی گئی ایک شرط کے تحت صوبائی اسمبلی کو ساٹھ دن کے اندر اِس کی توثیق کرنی ہوتی ہے۔

سب سے مشکل صورتفوجی عدالتیں اور شہری

بیرونی آلے کا رخ اندر کی طرف سب سے دور تک تعیناتی میں نہیں، عدالتی فیصلے میں مڑا ہے۔ 1999 کے فیصلے نے بنیاد رکھ دی تھی: فوجی عدالتیں قانونی اختیار کے بغیر شہریوں کے مقدمات نہیں سن سکتیں۔

پھر پارلیمنٹ نے یہ اختیار خود بنایا۔ آئین (اکیسویں ترمیم) ایکٹ 2015، جو 6 جنوری 2015 کو منظور ہوا اور اگلے دن جس پر دستخط ہوئے، نے آرٹیکل 175(3) میں ترمیم کی اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953، پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 اور پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ 2014 کو پہلے شیڈول میں شامل کیا، دو سال کی مقررہ مدت کے ساتھ۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بنام وفاقِ پاکستان میں سترہ ججوں کے بنچ نے 2015 میں اکثریت سے اِن درخواستوں کو مسترد کیا، اور اکثریت نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کا ترمیم کا اختیار اُن حدود کے تابع ہے جو عدالت نافذ کر سکتی ہے۔ آئین (تیئسویں ترمیم) ایکٹ 2017 نے مارچ 2017 میں یہ بندوبست مزید دو سال کے لیے بحال کیا۔

پھر یہ مدت ختم ہو گئی۔ انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے 1 اپریل 2019 کو کہا کہ شہریوں پر یہ دائرۂ اختیار 30 مارچ 2019 کو بغیر توسیع ختم ہو گیا۔ کمیشن نے — فوجی ذرائع اور جنوری 2015 سے اپنی نگرانی کی بنیاد پر — 617 سزائیں ریکارڈ کیں، جن میں 346 سزائے موت اور 271 قید کی سزائیں تھیں، کم از کم 56 افراد کو پھانسی دی گئی اور چار کو بری کیا گیا۔ یہ کمیشن کے اعداد و شمار ہیں، کوئی سرکاری گوشوارہ نہیں۔

خلاصہچار سوال، ایک فیصلہ نہیں

دستاویزات بہت کچھ طے کر دیتی ہیں: کمان کس کے پاس ہے، اندرونِ ملک کارروائی سے پہلے کیا ہونا ضروری ہے، کس عدالت کا دروازہ بند ہوتا ہے اور کس کا کھلا رہتا ہے، کون سی فورسز وفاقی ہیں، اور پولیس کے لیے قانون کون بناتا ہے۔ وہ عملی توازن طے نہیں کرتیں، اور اِس پر یہ ادارہ فیصلے کے بجائے دلائل سامنے رکھتا ہے۔ دی آرمی اینڈ ڈیموکریسی (ہارورڈ یونیورسٹی پریس، 2014) میں عاقل شاہ کہتے ہیں کہ کمزور قومی یکجہتی اور بھارت سے متعلق مستقل سلامتی تشویش نے فوج کو غالب سیاسی فریق بنا دیا اور جمہوری اداروں کی نشوونما روک دی۔ کراسڈ سورڈز (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2008) میں شجاع نواز ذمہ داری زیادہ وسیع دائرے میں بانٹتے ہیں، سول اور فوجی قیادتوں کے درمیان اور خود اُن کے اندر کے تنازعات تک۔ دونوں سنجیدہ تحریریں ہیں، اور دونوں کا نتیجہ ایک نہیں۔

متن جس سوال کا جواب دے سکتا ہے وہ اِس سے تنگ ہے۔ اندر کی طرف کتنی دور؟ صرف سول اختیار کی مدد میں، اور اِس کا مطلب ہے کہ سول اختیار موجود ہو۔ کس کے اختیار سے؟ وفاقی حکومت کی ہدایت پر، کسی قانون کے تحت، عملاً صوبے کی درخواست پر۔ کتنی مدت کے لیے؟ جتنی مدت کوئی نوٹیفکیشن یا کوئی مقررہ حد اجازت دے — نوے دن، دو سال، اگلے حکم تک۔ نظرثانی کس کی؟ اُس علاقے میں آرٹیکل 199 کے تحت عدالتِ عالیہ کی نہیں، اور شق (2) کے ظاہری الفاظ کے مطابق خود ہدایت پر بھی نہیں — مگر سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے کے مطابق یہ پابندی آرٹیکل 184(3) تک نہیں جاتی۔

کسی بھی تعیناتی سے یہ چار سوال کریں، اور آپ وہی پوچھ رہے ہیں جس کا جواب دینے کے لیے آئین لکھا گیا۔ "کیا یہ جائز ہے؟" پوچھیں تو جواب میں بحث ملے گی۔